Sahih Bukhari Hadith No 1067 in Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ان سے ابواسحاق نے انہوں نے کہا کہ میں نے اسود سے سنا انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ   مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جتنے آدمی تھے ( مسلمان اور کافر ) ان سب نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا البتہ ایک بوڑھا شخص ( امیہ بن خلف ) اپنے ہاتھ میں کنکری یا مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی تک لے گیا اور کہا میرے لیے یہی کافی ہے میں نے دیکھا کہ بعد میں وہ بوڑھا حالت کفر میں ہی مارا گیا۔

Read more

Sahih Bukhari Hadith No 1066 in Urdu

اور امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے اعلان کرا دیا کہ نماز ہونے والی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھیں۔ ولید بن مسلم نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن نمر نے خبر دی اور انہوں نے ابن شہاب سے سنا، اسی حدیث کی طرح زہری ( ابن شہاب ) نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ( عروہ سے ) پوچھا کہ پھر تمہارے بھائی عبداللہ بن زبیر نے جب مدینہ میں «کسوف» کی نماز پڑھائی تو کیوں ایسا کیا کہ جس طرح صبح کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ نماز «کسوف» بھی انہوں نے پڑھائی۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں انہوں نے سنت کے خلاف کیا۔ عبدالرحمٰن بن نمر کے ساتھ اس حدیث کو سلیمان بن کثیر اور سفیان بن حسین نے بھی زہری سے روایت کیا، اس میں بھی جہری قرآت کرنے کا بیان ہے۔

Read more

Sahih Bukhari Hadith No 1065 in Urdu

ہم سے محمد بن مہران نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید بن سلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن نمر نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سنا، انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے (اپنی خالہ) عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز میں قرآت بلند آواز سے کی، قرآت سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو «سمع الله لمن حمده،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ربنا ولك الحمد‏» کہا پھر دوبارہ قرآت شروع کی۔ غرض گرہن کی دو رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے کئے۔

Read more

Sahih Bukhari Hadith No 1064 in Urdu

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواحمد محمد بن عبداللہ زبیری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے عمرہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی دو رکعتوں میں چار رکوع کئے اور پہلی رکعت دوسری رکعت سے لمبی تھی۔

Read more

Sahih Bukhari Hadith No 1063 in Urdu

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے ابوبکرہ نے کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے ( بڑی تیزی سے ) مسجد میں پہنچے۔ صحابہ بھی جمع ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی، گرہن بھی ختم ہو گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور ان میں گرہن کسی کی موت پر نہیں لگتا اس لیے جب گرہن لگے تو اس وقت تک نماز اور دعا میں مشغول رہو جب تک یہ صاف نہ ہو جائے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ( اسی دن ) ہوئی تھی اور بعض لوگ ان کے متعلق کہنے لگے تھے ( کہ گرہن ان کی موت پر لگا ہے ) ۔

Read more

Sahih Bukhari Hadith No 1062 in Urdu

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی تھی۔

Read more

Sahih Bukhari Hadith No 1061 in Urdu

اور ابواسامہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے فاطمہ بنت منذر نے خبر دی، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ   جب سورج صاف ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی تعریف کی اس کے بعد فرمایا «أما بعد» ۔

Read more

Sahih Bukhari Hadith No 1060 in Urdu

ہم سے ابوالولید طیالسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ   جس دن ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت ہوئی سورج گرہن بھی اسی دن لگا۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا کہ گرہن ابراہیم رضی اللہ عنہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشان ہیں۔ ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا۔ جب اسے دیکھو تو اللہ پاک سے دعا کرو اور نماز پڑھو تاآنکہ سورج صاف ہو جائے۔

Read more

Sahih Bukhari Hadith No 1059 in Urdu

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ   ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرا کر اٹھے اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آ کر بہت ہی لمبا قیام، لمبا رکوع اور لمبے سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے نہیں دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد فرمایا کہ یہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں آتیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اس لیے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس سے استغفار کی طرف لپکو۔

Read more

Sahih Bukhari Hadith No 1058 in Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری اور ہشام بن عروہ نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، انہیں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کے ساتھ نماز میں مشغول ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی۔ پھر رکوع کیا اور یہ بھی بہت لمبا تھا۔ پھر سر اٹھایا اور اس مرتبہ بھی دیر تک قرآت کی مگر پہلی قرآت سے کم۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسری مرتبہ ) رکوع کیا بہت لمبا لیکن پہلے کے مقابلہ میں مختصر پھر رکوع سے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں چلے گئے اور دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا جیسے پہلی رکعت میں کر چکے تھے۔ اس کے بعد فرمایا کہ سورج اور چاند میں گرہن کسی کی موت و حیات سے نہیں لگتا۔ البتہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دکھاتا ہے، اس لیے جب تم انہیں دیکھو تو فوراً نماز کے لیے دوڑو۔

Read more